بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عراق کے سیدالشہداء بریگیڈز کے سیکرٹری جنرل ابو الاعلیٰ الولائی نے اخبار 'میڈل ایسٹ ان کورڈ (Middle East Uncovered)' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقاوتی تحریکوں کا موجودہ کردار جہادی ہے جس کا مقصد ہر وہ بھلائی کا ہر وہ کام کرنا ہے جو عراق کے لئے ممکن ہو۔

امریکہ اور ترکیہ کو قابض سمجھتے ہیں
ابو الاعلیٰ الولائی نے کہا: عراق کی مقاومتی تحریکیں عراق کی سرزمین پر امریکہ اور ترکیہ کی موجودگی کو 'قبضہ' سمجھتی ہیں، گوکہ شاید یہ موقف حکومت کے اختیار کردہ موقف سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
عراقی مقاومت، عوامی مقاومت ہے
الولائی نے میڈل ایسٹ ان کورڈ اخبار سے گفتگو میں عراقی عوام کی طرف سے مقاومتی تحریکوں کی حمایت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: "ہمیں عراقی عوام میں وسیع حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کے خاص گروہوں اور سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی ہمارا وسیع حمایتی حلقہ موجود ہے۔"
موجودہ حکومت کی کارکردگی
انھوں نے عراق کی موجودہ حکومت کے بارے میں کہا: "خدمات اور ادارہ جاتی امور کے شعبے میں حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینا مشکل اور شاید غیرمنصفانہ ہو؛ کیونکہ یہ حکومت جنگی صورتحال، آبنائے ہرمز کے بحران، علاقائی تناؤ اور اقتصادی بحران کے دوران کابینہ کے صرف نصف ارکان کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی تعریف کی جانی چاہئے کیونکہ وہ اندرونی تصادم روکنے اور عراق کو بین الاقوامی تنہائی سے بچانے میں کامیاب رہی ہے۔"

عراقی مقاومتی تحریکیں اور اسلامی جمہوریہ ایران
ابو الاعلیٰ الولائی نے عراق کی مقاومتی تحریکوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے باہمی تعلقات کے بارے میں کہا: "ہمارا ایران کے ساتھ تعلق تاریخی، دینی اور مذہبی ہے اور ہم اسے ہمسایہ اور دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایران نے ہمارے خلاف جنگ میں فراخ دلی سے حمایت کی؛ لاجسٹک سپورٹ، تربیت اور اسلحے سے لے کر ایرانی افواج کی جنگ میں براہ راست شرکت تک۔"
انہوں نے کہا: "یہ تعلق گہری جڑوں پر استوار ہے اور دین اور ہمسایگی کے رشتوں پر مبنی ہے اور اسے توڑا نہیں جا سکتا۔ ہمارا خون میدان جنگ میں اور ایک ہی مورچے میں، اپنے وطن، دین اور مذہب کے دشمنوں کے مقابلے میں گھل مل گیا ہے، ہمارا آخری شہید بھی حزب اللہ لبنان کے قائد شہید سید حسن نصراللہ کے محافظ کے ساتھ تھا؛ وہ دونوں عراق سے ایران کی طرف نکلتے ہی فوراً اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بن کر صہیونی بمباری میں شہید ہو گئے۔
ایران پر ممکنہ جارحیت کی صورت میں مقاومت کا رد عمل
انھوں نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں مقاومتی تحریکوں کے متوقعہ ردعمل کے بارے میں کہا: "علاقائی تنازعات میں ہمارا رویہ مکتب تشیّع کے پورے وجود کے دفاع کے مقصد سے شرکت پر مبنی ہے۔ اگر ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہو تو ہم ضرور اس جنگ میں شرکت کریں گے۔ لیکن اگر خطرہ وجودی نہ ہو تو ہم جنگ میں نہیں اتریں گے؛ جیسا کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں بھی ہم نے یہ ثابت کیا۔"
عراق میں امریکی سفارت خانہ شر کی جڑ
انھوں نے عراق میں امریکی سفارت خانے کے کردار کے بارے میں کہا: "ہم امریکی سفارت خانے کو برائی کی جڑ سمجھتے ہیں؛ کیونکہ وہ عراق کے سیاسی معاملات اور فیصلوں میں کھلم کھلا مداخلت کرتا ہے اور اس ملک کی سیاسی قوتوں پر دباؤ ڈالتا ہے۔ اس سفارت خانے کو عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہے؛ اگرچہ امریکی، نظام کی تبدیلی کے عمل کے آغاز میں، عراق میں داخل ہوئے تو کچھ حلقوں نے ان کا استقبال کیا، لیکن یہ صورت حال بہت جلد بدل گئی اور امریکی فوجی وسیع کارروائیوں کے بعد عسکری طور پر عراق میں ناکام ہو گئے اور اب وہ اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔"
پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات
سیدالشہداء بریگیڈز کے سیکرٹری جنرل نے عراق کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی کہا: "علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعتماد سازی میں کافی وقت لگتا ہے؛ خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جنہوں نے عراق میں اس ملک میں عوام کا قتل عام کرنے کے لئے خودکش دہشت گرد بھیجتے رہے تھے یا جنہوں نے اپنے فوجی اڈوں سے عراق پر بمباری کی اجازت دی تھی۔"
امریکہ کا اعلان کردہ انعام، رکاوٹ نہیں بن پایا
الولائی نے اپنے بارے میں معلومات کے بدلے امریکی انعام کے بارے میں بھی کہا: "یہ کہ امریکی میری تلاش میں ہیں اور میرے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر بڑا انعام مقرر کیا گیا ہے، اس نے میری سرگرمیوں اور آمد و رفت کو محدود نہیں کیا اور نہ ہی متضاد نظریات کو قریب لانے، بعض اوقات بحرانوں کو قابو کرنے اور تنازعات و اختلافات کو بڑھنے سے روکنے میں میرے کردار میں کمی آئی ہے، خاص طور پر حکومت اور بعض گروہوں کے درمیان۔ حالیہ مہینوں میں بھی ہم نے اختلافات کم کرنے اور تمام فریقوں کے لئے قابل قبول حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے سنجیدگی سے کام کیا ہے؛ ایسا معاہدہ جو وطن اور عوام کے مفادات کو تمام دیگر مفادات پر مقدم رکھتا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ